شاہ محمود قریشی آف ملتان۔۔۔۔۔سہیل وڑائچ

پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی سہروردی نہ تو اپنے خاندان کے پہلے ’شاہ محمود‘ ہیں اور نہ ہی اپنے خاندان میں اعلیٰ عہدے پر متمکن ہونے والے پہلے فرد ہیں۔ شیخ بہاؤالدین زکریا قریشی ملتانی اور ان کے پوتے شاہ رکن عالم کی اولاد میں سے کئی نامی گرامی اور صاحبانِ اقتدار گزرے ہیں۔

1857 کے غدر(جنگ آزادی) کے وقت اس خاندان کے سربراہ کا نام بھی شاہ محمود قریشی تھا۔ انھوں نے سکھوں کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دیا۔ حریت پسند احمد خان کھرل کی گرفتاری اور اس علاقے میں پھیلی بغاوت کو فرو کرنے میں بھی انھوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

اس خاندان کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ علمائے ہندوستان کے شیخ الاسلام کا سب سے بڑا عہدہ بھی ان کے پاس رہا۔ سکھوں اور نواب مظفر خان آف ملتان کی لڑائی میں اس خاندان نے نواب مظفر خان کا ساتھ دیا اور جب نواب مظفر خان اپنے نوجوان بیٹوں کے قتل کے بعد شہید ہوئے تو ان کی وصیت کے مطابق انھیں بہاؤالدین زکریا ملتانی کے مزار کی چوکھٹ کے نیچے سپرد خاک کیا گیا۔

مزار پر حاضری دینے والا ہر شخص اس قبر کے اوپر پاؤں رکھ کر مزار میں داخل ہوتا ہے۔

سر لیپل گریفن کی مشہور کتاب پنجاب چیفس کا ترجمہ سید نوازش علی نے ’تذکرہ رؤسائے پنجاب‘ کے نام سے کیا۔

قریشی خاندان کے باب میں (صفحہ 498) مذکور ہے، ’1857 میں مخدوم شاہ محمود نے گورنمنٹ کی بڑی اچھی خدمت انجام دی۔ یہ صاحب کمشنر بہادر کو ان تمام ضروری واقعات کی خبر دیتا رہا جو اسے معلوم ہوتے رہتے تھے۔‘

’ملتان میں بغاوت کرنے والی رجمنٹوں سے ہتھیار چھیننے کے موقع پر مخدوم ممدوح نے معہ اپنے مریدوں کے صاحب کمشنر بہادر کا ساتھ دیا۔‘

’ان خدمات کے صلے میں مخدوم شاہ محمود کو تین ہزار روپیہ نقد انعام ملا(صفحہ 499)، زیارت کے نقد وظیفہ کا تبادلہ 1780 روپے مالیت کی ایک اراضی جاگیر کے ساتھ کر دیا گیا یہ جاگیر، ان 550روپیہ مالیت کے آٹھ چاہات (کنویں) کے علاوہ تھی جو مخدوم کو علی الدوام عطیہ کے ملے تھے۔ پھر 1860 میں حضور وائسرائے بالقابہ کی تشریف آوری لاہور کے موقع پر مخدوم کی ذات خاص کے لیے ایک باغ 150روپیہ سالانہ آمدنی کا عطا ہوا جو بھنگی والا باغ مشہور ہے۔‘

اس خطے کی تاریخ کا ایک اور اہم ترین موقع قیامِ پاکستان تھا۔ قیامِ پاکستان سے ایک سال پہلے 1946 کے معرکتہ آلارا انتخابات ہوئے جس میں قریشی خاندان نے یونینسٹ پارٹی کا ساتھ دیا۔

اس وقت کے گدی نشین مخدوم مرید حسین قریشی تھے جبکہ ان کے بھتیجے میجر عاشق حسین قریشی یونینسٹ پارٹی کےامیدوار تھے۔ قریشی اس وقت غلط کشتی پر سوار ہو گئے۔ یونینسٹ پارٹی کو شکست ہوئی۔ مسلم لیگ جیت گئی اور قیام پاکستان کی راہ ہموار ہو گئی۔

یہ وہی مرید حسین قریشی تھے جن کے صاحبزادے مخدوم سجاد حسین قریشی نے بہت محنت اور جانفشانی سے اپنے آباؤ اجداد کے مریدین کے سلسلوں کو زندہ کیا، خود بھی سیاسی طور پر متحرک رہے، ایم پی اے رہے پھر سینیٹر منتخب ہوئے اور بالآخر گورنر پنجاب بن کر صوبے کی اہم ترین سیٹ پر بیٹھ کر اپنے خاندان اور روحانی سلسلے کی ساکھ کو بڑھایا۔

ڈیوڈ گل مارٹن کی تحقیقی کتاب امپائر اینڈ اسلام میں سجادہ نشینوں اور پیروں کے حلقہ ارادت اور ان کی موروثی سیاست کا تفصیلی ذکر ہے۔

گل مارٹن لکھتے ہیں کہ سجادہ نشین بہاؤالدین زکریا کو انگریزی دربار میں بیٹھا دیکھ کر مقامی لوگ نہ صرف متاثر ہوئے بلکہ انگریزی سرکار کی امداد پر آمادہ بھی ہوئے تھے۔ انگریز سرکار نے سجادہ نشینوں اور رؤسا کو جاگیریں، انعام اور عہدے سیاسی بنیادوں پر ہی عطا کیے۔ اے سی بیلے کی تحقیق کے مطابق ’یہ رؤسا اپنے مذہبی رتبے اور سماجی مقام کی وجہ سے حکومتی عہدیداروں اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے تھے۔‘

دراصل آج کی سیاست 1937 اور 1946 کی سیاست پر ہی تو مبنی ہے۔ تقریباً ہر ضلع میں وہی پرانے خاندانوں کی اولادیں اور ان کے دھڑے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

بیلے نے اس طریقہ سیاست کو ’سرپرستی کی سیاست‘ کا نام دیا تھا جس میں پورا دھڑا تھا۔ یہ کچہری سے لے کر ضلعے تک ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے اسی لیے جب شاہ محمود قریشی پی ٹی آئی میں آتے ہیں تو ان کا پورا دھڑا اور ووٹ بنک ان کے ساتھ ہی اس پارٹی میں آ جاتا ہے۔

ایسا ہی یوسف رضا گیلانی آف ملتان کا حال ہے۔ ان کا دھڑا اور ووٹ بینک بھی جس پارٹی میں ان کا سربراہ جاتا ہے اسی کے ساتھ چلے جاتے ہیں۔ کسی بھی حلقے میں یہ جاننا مشکل ہے کہ سجادہ نشین کو کتنے ووٹ مذہب کی بنیاد پر ملتے ہیں اور کتنے سیاست کی بنیاد پر۔

مگر یہ جاننا آسان ہے کہ ایسے مذہبی اور سیاسی دھڑے حلقے کے کم از کم چوتھائی ووٹ بینک پر مشتمل ہوتے ہیں۔ باقی فلوٹنگ ووٹ ہوتا ہے جس گروپ یا پارٹی کی ہوا چلے اسے فلوٹنگ یا اُڑتے ہوئے ووٹ مل جاتے ہیں اور وہ اپنے مخالف کو ہرا دیتا ہے۔

سادہ اندازے کے مطابق دھڑئے کے 25 فیصد ووٹ کے ساتھ دیہی علاقوں میں 15 فیصد پارٹی ووٹ اور دس فیصد فلوٹنگ ووٹ ہوتا ہے۔

مخدوم سجاد قریشی کے فرزندارجمند اور موجودہ سجادہ نشین شاہ محمود قریشی بیرون ملک سے تعلیم حاصل کر کے آئے، ڈسٹرکٹ کونسل کا انتخاب لڑا، کامیاب نہ ہوئے بعد ازاں اپنے والد کی پیروی میں آئی جے آئی اور مسلم لیگ ن کے سرگرم رکن بن گئے۔

ایم پی اے بنے تو نواز شریف کابینہ میں صوبائی وزیر خزانہ کے عہدے پر بھی فائز ہوئے، ن لیگ سے اختلاف ہوا تو پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے۔

بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھی رہے، ایک بار پنجاب پیپلزپارٹی کی صدارت کا تاج بھی انھیں پہنایا گیا۔ بینظیر کی وفات کے بعد آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی حکومت بنی تو انھیں وزارت خارجہ کا قلمدان سونپا گیا۔

ریمنڈ ڈیوس اور وزارتوں کی تقسیم کے مسئلے پر اختلاف ہوا تو نہ صرف وزارت چھوڑ دی بلکہ پیپلزپارٹی کو بھی خیر باد کہہ دیا۔

دونوں بڑی جماعتوں میں رہنے کے بعد انھوں نے نئی اور ابھرتی ہوئی جماعت پاکستان تحریک انصاف میں دھوم دھڑکے سے شمولیت کا اعلان کر دیا اور یوں وہ عمران خان کے رفیق کار بن گئے۔ شاہ محمود قریشی پاکستان تحریک انصاف کی جہد مسلسل میں عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہے۔

حکومت بننے سے پہلے خیال یہ تھا کہ پی ٹی آئی میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شاہ محمود قریشی ہوں گے مگر اندرونی سیاست نے کچھ ایسا کام دکھایا کہ پی ٹی آئی کے ایک آزاد امیدوار نے انھیں صوبائی نشست پر شکست دے دی اور یوں وہ وزارت اعلی کی دوڑ سے باہر ہو گئے تاہم عمران خان نے انہیں اپنی کابینہ میں پھر سے وزیر خارجہ کا عہدہ دے دیا۔

شاہ محمود قرشی ایماندار، قابل اور تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ تاہم وہ اپنے علاقائی اور سیاسی مخالفوں سے برسریپکار رہتے ہیں اور ان کے ساتھ کشیدگی کو ختم کرنے یا کوئی دیرپا معاہدہ کرنے کو تیار نہیں ہوئے۔

پیپلزپارٹی میں تھے تو یوسف رضا گیلانی سے جنوبی پنجاب اور ملتان کی چودھراہٹ پر جھگڑا رہتا تھا۔ تحریک انصاف میں آئے تو جہانگیر ترین اور جاوید ہاشمی سے پنجہ آزمائی رہی۔ جتنا عرصہ جاوید ہاشمی تحریک انصاف میں رہے، شاہ محمود قریشی ان کی وجہ سے اپ سیٹ ہی رہے۔

جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کی گروپنگ نے تو ساری تحریک انصاف کو تقسیم در تقسیم کر کے رکھ دیا۔ ان دنوں شاہ محمود قریشی وزیر اعظم عمران خان کی کچن کابینہ کا حصہ بھی ہیں اور وہ پاکستان کی قیادت کا اہم ترین متبادل بھی ہیں۔

شاہ محمود قریشی اپنے دھڑے کی سیاست دھڑلے سے کرتے ہیں۔ اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھتے ہیں اور اپنے گروہ کے مفادات کا بھرپور خیال رکھتے ہیں۔

پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے وہ بہت متحرک ہیں، خوبصورت گفتگو اور شائستہ اندازِ بیاں ہے۔ وہ سوچ سمجھ کر اور چہرے کے مکمل اُتار چڑھاؤ کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ ان کی احتیاط پسندی کے باوجود سعودی عرب کے حوالے سے ان کے بیان کو افراط و تفریط کا مظہر قرار دیا گیا اور سعودی عرب نے اس پر خاصی ناراضی کا اظہار کیا۔ اس سے پہلے کرتار پور راہداری کھلنے پر بھی ان کے بیان پر تنقید ہوئی تھی مگر دوسری طرف ان کی محنت اور دیانت ان کی خامیوں پر حاوی رہتی ہے۔

دیکھنا یہ ہو گا کہ قریشی خاندان کا یہ چشم و چراغ، گدی نشین اور ذہین و فطین کیا اپنے آباؤ اجداد کی طرح صرف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے گا یا کبھی ملک کا اصلی اور طاقتور حکمران بن کر اپنے خاندان کے بزرگوں سے بھی اونچا دنیاوی مقام حاصل کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں