دیپال پور خاتون وکیل اغواء کیس ،تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ جاری کردی

دیپال پورخاتون اغواء کیس معاملے پر بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں خاتون وکیل کے مقدمے کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے دیا گیا ہے۔یاد رہے ممبردیپالپور بارایسوسی ایشن ارشاد نسرین ایڈووکیٹ کے معاملے پرچھ رکنی کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں میاں محمدشریف ظفر جوئیہ سابق ممبر پنجاب بار ،چوہدری محمدریاض سابق ممبر پنجاب بار ،سیدالطاف حسین بخاری سابق صدر ،میاں فخرحیات وٹوصدر بار دیپال پور ،شیخ ضیاءالرحمن احمر سیکڑی بار دیپال پور،میاں محمداسلم شاد جیسے سینئر وکلاء شامل تھے.

اس تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق ارشاد نسرین ایڈووکیٹ نے تمام الزامات اپنے مخالفین کو پھنسانے کیلئے لگائے اور وہ اس سے قبل بھی اس نوعیت کے مقدمات اپنے مخالفین کے خلاف کرواتی رہی ہیں۔تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پنجاب بار کونسل کو بھجوا دی ہے یاد رہے اس معاملہ پر وزیراعظم پاکستان نے بھی نوٹس لے رکھا ہے۔

یاد رہے ارشاد نسرین ایڈووکیٹ اس تحقیقاتی کمیٹی پر پہلے ہی تحفظات کا اظہار کرچکی ہیں اورنءی انکواءری کمیٹی بنانے کا مطالبہ کرچکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں