جے آئی ٹیز کا ابال۔۔۔۔۔۔عارف نظامی

لیاری گینگ کے سرغنہ عزیر بلوچ کے جرائم اور اس کے پشت پناہوں کے بارے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی ) کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد سیاست کی باسی کڑھی میں خاصا ابال آ گیا ہے کیونکہ پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کی مجرمانہ کارروائیوں، بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں ستمبر 2012 ء میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعہ میں ہلاکتوں یا پھر فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی (فشریز) کے سابق چیئرمین نثار مورائی کے حوالے سے الزامات میں کوئی نئے انکشافات نہیں ہیں۔

سیاستدانوں، جرائم پیشہ عناصر اور قانون نافذ کرنے والوں کی بالخصوص کراچی میں ملی بھگت بھی کوئی نئی خبر نہیں ہے۔ کسے معلوم نہیں کہ ایم کیو ایم کے ٹھگوں نے بھتہ وصول نہ ہونے پر جس کی رقم اب 25 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے بلدیہ ٹاؤن میں گارمنٹس فیکٹری کو نذر آتش کر دیا جس میں 279 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن اتنے سنگین معاملے کو اس وقت کی حکومت میں شامل ایم کیو ایم، مقامی پولیس اور انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے دبا دیا گیا۔

آج کے سیاسی تناظر میں اس حد تک بہتری ضرور آئی ہے کہ ایسا واقعہ ہونا اور کسی کے کیفر کردار نہ پہنچنا مشکل ضرور ہے پر ناممکن نہیں۔ لیکن اس وقت فوکس بلدیہ ٹاؤن یا فشرمین نہیں بلکہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ وجہ تسمیہ بنی ہوئی ہے اور اس پر سیاست کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے معاملات کو ہذیانی کیفیت تک پہنچانے میں وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی کا کلیدی کردار ہے جنہوں نے یہ معاملہ گزشتہ ماہ کے آخر میں قومی اسمبلی میں اٹھایا۔

وزیر موصوف جن کا تعلق کراچی سے ہے خاصی سیماب پا طبیعت کے مالک ہیں، ان کے طرز گفتگو اور بدن بولی سے ڈرامے بازی چھلکتی ہے۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ وہ 2017 ء میں دبئی سے واپس آئے تو ملازم نے بتایا کہ موٹر سائیکل سوار نا معلوم شخص ایک خاکی لفافہ ان کے نام چھوڑ گیا ہے جسے انھوں نے اگلے روز کھولا تو اس میں عزیر بلوچ اور نثار مورائی کے بارے میں جے آئی ٹی رپورٹس تھیں۔ زیدی صاحب ہکا بکا رہ گئے یہ کون سی مخلوق ہے جو ان کے گھر پر یہ رپورٹس چھوڑ گئی ہے۔

بعدازاں انھوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جس نے فیصلہ دیا کہ ان رپورٹس کو منظر عام پر لایا جائے۔ قومی اسمبلی کے فلور پر ڈرامائی انداز میں سفید کاغذ لہراتے ہوئے علی زیدی نے انکشاف کیا کہ اس رپورٹ میں آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے نام موجود ہیں کہ وہ عزیر بلوچ کی پشت پناہی کرتے ہیں لیکن جب سندھ حکومت نے یہ رپورٹس جاری کر دیں اور انہیں ویب سائٹ پر لگا دیا تو ان میں آصف زرداری اور فریال تالپور کا کہیں ذکر نہیں تھا۔

اب علی زیدی نے ایک اور انکشاف کیا کہ سندھ حکومت کی جاری کردہ جے آئی ٹی کی رپورٹ تحریف شدہ ہے جبکہ اصل رپورٹ وہ ہے جو میرے پاس ہے اور اب سپریم کورٹ اس کا از خود نوٹس لے کر فیصلہ کرے۔ عمومی طور پر جے آئی ٹی کی رپورٹس حکومت جاری کرتی ہے اور اکثر تو جاری ہی نہیں ہوتیں اور کچھ رپورٹس عدالتیں جاری کرنے کا حکم دیتی ہیں۔ کچھ جے آئی ٹیز عدلیہ نے بھی بنائی ہیں جیسا کہ میاں نواز شریف کی بیرون ملک جائیدادوں کے حوالے سے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی لیکن جس انداز سے موجودہ حکومت نے عزیز بلوچ کی جے آئی ٹی کو ہینڈل کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے جس سے جے آئی ٹی جو ایک سنجیدہ معاملہ ہونا چاہیے بازیچہ اطفال بن کر رہ گیا ہے۔

اس رپورٹ کے افشا ہونے کے بعد وفاق کی سندھ حکومت پر سیاسی یلغار کو انتہا کے درجے پر پہنچا دیا گیا۔ علی زیدی صاحب مصر ہیں کہ ان کے بیان کردہ واقعات مبنی برحقائق تھے لہٰذا ان کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ دوسری طرف اس بات کا تعین ہونا چاہیے کہ وہ کون سا ”فرشتہ“ تھا جو ان کے گھر یہ رپورٹس چھوڑ گیا حالانکہ علی زیدی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ جے آئی ٹی کی رپورٹس ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ بات توجہ طلب ہے کہ بلدیہ ٹاؤن کا سانحہ جسے دہشت گردی کی سنگین واردات قرار دیا گیا ہے کی رپورٹ علی زیدی کو ملنے والے خاکی لفافے میں موجود نہیں تھی۔

اس سے یہ شبہ تقویت پکڑتا ہے کیا یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ ایم کیو ایم موجودہ حکومت کی سیاسی حلیف ہے لہٰذا اس سیاسی جماعت جس نے 90 ء کی دہائی میں دہشت گردی، بھتہ خوری، قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا کو مطعون نہیں کرنا چاہیے۔ اگرچہ اعلیٰ عدالتوں کو سیاسی معاملات میں نہیں گھسیٹنا چاہیے لیکن اب اس کے سوا چارہ بھی نہیں کہ کوئی اعلیٰ فورم ہی یہ فیصلہ کرے کہ کون سی جے آئی ٹی کی رپورٹس اصلی ہیں اور کون سی نقلی اور اگر زیدی صاحب نے، واردات، کی ہے تو پھر ان کے خلاف قانونی کارروائی کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے اور اگر وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے نامکمل رپورٹ جاری کر کے سندھ حکومت کی ویب سائٹ پر لگا دی ہے تو پھر انھیں بھی اس منصب پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

عزیر بلوچ ایک چھٹا ہوا بدمعاش ہے جس کے سر پر کم از کم 198 افراد کے قتل کا الزام ہے۔ عزیر بلوچ اس وقت ایجنسیوں کی تحویل میں قید کاٹ رہا ہے۔ ماضی میں پیپلز پارٹی سے اس کا تعلق کوئی ڈھکا چھپا نہیں، وہ نام نہاد پیپلز امن کمیٹی کا سربراہ تھا، یہ تنظیم ایم کیو ایم کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ عزیر بلوچ کے پاس ایرانی شہریت بھی بتائی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ ایران کے لیے جاسوسی بھی کرتا تھا اور ستمبر 2014 ء میں عمان چلا گیا تھا، 29 دسمبر 2014 ء کو اسے انٹرپول نے مسقط سے بائے روڈ جعلی دستاویزات پر دبئی جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

بعدازاں جنوری 2016 ء میں کراچی سے رینجرز نے اسے گرفتار کر لیا۔ سابق صدر آصف زرداری اور ان کے سابق ذاتی دوست ذوالفقار مرزا کے عزیر بلوچ سے گہرے رابطے بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں لیکن موصوف دو شوگر ملیں لے کر زرداری صاحب کے ازلی دشمن بن چکے ہیں اور اب تحریک انصاف کی گود میں بیٹھے ہیں۔ متذکرہ رپورٹس کے افشا ہونے سے یہ بات جس کا پہلے ہی سب کو علم تھا پھر واضح ہو گئی ہے کہ شہری سندھ کو لوٹنے اور امن اومان تباہ کرنے میں وہاں کے سیاستدانوں کا کریمنل گینگز کی پشت پناہی کرنا اور راؤ انوار جیسے افسروں کا اثر و رسوخ شامل تھا جس سے کراچی کی روشنیاں ماند پڑ گئیں اور یہاں قتل، ڈکیتی، آتشزنی، بھتہ خوری اور دہشت گردی کا بازار گرم رہا ہے۔

مقام شکر ہے کہ دسمبر 2013 ء کے بعد میاں نواز شریف کی حکومت، فوجی قیادت، رینجرز اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کراچی کو ٹھیک کرنے کے لئے ایک صفحے پر آ گئے اور بالآخر کراچی کی روشنیاں کسی حد تک بحال ہو گئیں لیکن اس کے باوجود پونے دو کروڑ سے زائد آبادی کے شہر کی حالت زار حالیہ بارشوں کے دوران پوری طرح واضح ہو گئی ہے۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں