زرداری، بنگالی، بہاری اور بھکاری…….نبیلہ کامرانی

یوں تو میری پیدائش بھی کراچی کی ہی ہے، ابھی تک رہائش بھی کراچی کے مختلف علاقوں میں ہی رہی۔ تعلیم اور کام کی نوعیت بھی کچھ ایسی ہے کہ ایک عام گھریلو خاتون کے مقابلے میں شہر کے کونے کونے میں جانے کا اتفاق ہوتا ہے، لیکن ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ میں نے پورا کراچی دیکھ لیا ہے۔ میرے دفتر کا راستہ ملیر سٹی کورٹ کے پیچھے کی جانب ہے۔ ریل کی پٹڑی کے نتیجے سے جب میری سواری گزر رہی ہوتی ہے تو وہاں بیٹھے غریب بھکاریوں کو نزدیک سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

یہ لوگ پٹڑیوں کے ساتھ بنی کچی آبادی کے رہائشی ہیں۔ ان کے گھروں سے بہنے والا گندا بدبو دار پانی پٹری کے نتیجے والی سڑک پر پورا سال بہتا ہے۔ وہ عورتیں چھوٹے چھوٹے بچوں کو گود میں تھامے سڑک پے آنے جانے والی سواریوں کی طرف دیکھ کہ دست سوال اٹھاتی ہیں۔

سارے شہر میں منڈلانے پہ بھی اردو بولنے والے فقیر میری نظر سے بہت ہی کم گزرتے ہیں۔ بہت بڑا سفید پوش طبقہ جو کراچی کی غریب آبادیوں میں آباد ہے وہاں بھی بھکاری عام طور پر مقامی زبان بولنے والے ہی ملتے ہیں۔ سدرن پنجاب اور سندھ کے۔ اردو بولنے والے خصوصی طور پر ایسٹ پاکستانیوں کو میں نے آج تک خیرات مانگتے نہیں دیکھا ہو سکتا ہے یہ اتفاق ہی ہو۔

میرے والد چونکہ صحافی تھے اور ایسٹ پاکستان میں ہنگاموں کے زمانے میں وہ فسادات کی رپورٹنگ کے لیے بنگال کے چھوٹے چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں میں گئے۔ اپنی آنکھوں سے انہوں نے وہ کچھ دیکھا اور تصویر کشی کی جو اب نہ کوئی دیکھنا چاہتا ہے نا ہی کسی کو ان شہیدوں میں کوئی دلچسپی ہے۔ بہت سے گھروں میں کوئی ایک انسان زندہ نہ بچا، کسی گھر میں میں کوئی ایک فرد لاشوں میں دبا ہو زندہ نکل آیا۔ جس وقت لٹے ہوئے خاندان سرحد عبور کر رہے تھے اس وقت سرحدوں پر موجود سپاہی مہاجرین کی لڑکیوں پہ بدنیت ہو جاتے اور لڑکیوں کو گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے جاتے۔ بہت سے بے بس والدین وہیں دکھ سے جان کی بازی ہارگئے۔ جو لٹے پٹے قافلے کراچی کے صحرا میں اترے انہیں اورنگی ٹاؤن میں آباد کیا گیا، جہاں نہ پانی تھا نہ بجلی اور نہ ہی گیس۔

لیکن یہ لٹے پٹے بھکاری جو اپنی جان، مال اور عزت لٹا کے آئے تھے یہ سب پڑھنے میں لگ گئے، صفر سے شروع ہو گئے نئے سرے سے زندگی آغاز کی۔ یہ بھکاری اس قدر ذہین تھے کہ کراچی کے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ بورڈ میں کئی برس اول درجات حاصل کرنے لگے۔ سرکاری اور نجی اداروں میں تیزی سے ترقی پانے لگے۔ نہ یہ لوگ ڈاکو بنے نا ہی بھکاری یہ کیا کہ اپنی پوری توجہ تعلیم حاصل کرنے میں لگا دی؟

چند سالوں کے اندر ہی اورنگی ٹاؤن سے دوسرے علاقوں میں شفٹ ہو گئے۔ لیکن یہ کم بخت ڈھیٹ مٹی کے بنے ہوئے ہیں ایک تو بنگال سے زندہ آ گئے پھر صحرا میں آباد ہو گئے اور کام کرنے لگے یہ کیا؟ ان سب کو تو صرف بھکاری بننے کا شوق ہونا چاہیے تھا۔ سڑکوں کے کنارے ریل گاڑی کی پٹڑی کے ساتھ جھونپڑیوں میں اپنے ہی اجابت کے ساتھ۔

چند روز قبل سندھی اجرک ٹوپی ڈے دھوم دھام سے منایا گیا۔ پیر کی صبح جب میں دفتر آ رہی تھی تو اس روز منظر قدرے مختلف تھا۔ آج وہی نیم برہنہ بچے کلف لگے شلوار قمیض نئی ٹوپیوں میں ملبوس تھے۔ اس منظر کو دیکھ کر زرداری صاحب کی وہ تقریر ذہن میں گھوم گئی، جس میں محترم نے فرمایا کہ ”کہ کراچی شہر میں بنگالی اور بہاری لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں وہ کھاتے بھی ہیں، پیتے بھی ہیں اور گندا پانی بھی بناتے ہیں“۔ میرے خیال سے سابق صدرِ پاکستان بنگالی ایسٹ پاکستانیوں کو کہہ گئے۔
آج ناجانے ان بھوکے بنگالیوں، بہاریوں کو اجرک اور ٹوپی کون پہنا گیا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بشکریہ ہم سب نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں