’’گناہ ٹیکس ‘اور حقّہ بھی پیتے تھے نال نال‘‘…………مستنصر حسین تارڑ

جب سے حکومت وقت نے ’’سِن ٹیکس‘‘ یعنی ’’گناہ ٹیکس‘‘ کے نفاذ کا اعلان کیا ہے لوگ باگ گھبرائے گھبرائے پھرتے ہیں۔ ایک سراسیمگی سی پھیل گئی ہے۔

ایک صاحب پارک میں ذرا پوشیدہ سے ہو کر میرے پاس آ کر کہتے ہیں’’تارڑ صاحب پہلے مالی خسارہ پورا کرنے کے لئے مرغیوں اور کٹّوں وغیرہ کی شامت آئی تھی اب خان صاحب کو کیا سوجھی کہ گناہ ٹیکس عائد کرنے لگے ہیں۔ خود تو موج میلہ کر کے تائب ہو گئے ہیں اور دوسروں نے تو نہ موج کی اور نہ میلہ۔بس ملا جلا پھسپھسا سا پروگرام ہی رہا تو کیا اب اس پر بھی ٹیکس لگے گا۔

’’میں نے انہیں تسلی دی کہ غیر اخلاقی حرکات پر ٹیکس نہیں لگ رہا بلکہ صرف سگریٹوں اور مشروبات وغیرہ پر لگ رہا ہے۔ آپ کو فکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں‘‘ اس پر وہ صاحب سر ہلا کر بولے’’نہ جی۔ ان کا کوئی اعتبار ہے۔ سگریٹوں اور مشروبات سے مناسب رقم اکٹھی نہ ہو تو دیگر ’’حرکات‘‘ کو بھی ’’گناہ ٹیکس‘‘ کے جال میں شامل کر لیں۔’’اگرچہ فکر مند میں بھی کچھ کچھ تھا لیکن میں نے مسکراتے ہوئے کہا’’لیکن آپ تو پارک کے شرفاء میں شمار ہوتے ہیں‘‘ کہنے لگے’’اب ہوتا ہوں ناں!

آپ بھی تارڑ بھائی اب ہی ہوتے ہیں ناں‘‘ ’’کیا مطلب کہ اب ہوتا ہوں؟’’ میں خفیف سے طیش میں آ گیا۔’’میں یہ نہیں کہتا کہ میری چادر پر کوئی داغ نہیں۔ دوچار ہوں گے۔ لیکن مجموعی طور پر میں نے ایک صاف ستھری زندگی بسر کرنے کی کوشش کی ہے۔ بے شک میری بیوی سے پوچھ لیجئے۔ نہیں نہیں اس سے نہیں بلکہ میرے کسی دوست سے پوچھ لیں۔ ویسے دفع کریں دوستوں کو بھی۔ مجھ پر کیوں اعتبار نہیں کرتے.

’’ان صاحب کا منہ حیرت سے کھل گیا‘‘ حضور آپ خواہ مخواہ اپنے دفاع پر اتر آئے۔ میں آپ پر اعتبار کرتا ہوں لیکن کیا کروں کہ میں نے بھی آپ کے چند غیر ملکی سفر نامے پڑھ رکھے ہیں۔ اگر ان میں جو قصے آپ نے اپنے قلم سے تحریر فرمائے ہیں گویا اپنی ایف آئی آر خود ہی درج کر وا دی ہے تو ان سے کیسے انکاری ہو جائیں گے۔

’’گناہ ٹیکس‘‘ آپ پر واجب ہو جائے گا ’’اب میں نے اپنے طیش پر ٹھنڈا پانی ڈالا اور مسکرا کر کہا‘‘ چھوڑیں صاحب وہ تو زیب داستان والے فرضی قصے کہانیاں ہیں اور یوں بھی جوانی میں کون مکمل طور پر پارسا رہنے کا دعویٰ کر سکتا ہے اور عرض کر چکا ہوں کہ ’’گناہ ٹیکس‘‘ صرف تمباکو اور مشروبات پر عائد کیا جا رہا ہے۔

فی الحال پارک میں چہکتے پرندوں کے گیتوں پر سر دھنیے اور دھند میں ڈوبے منظر کے طلسم میں اتر کر لطف لیجئے اور خدا حافظ‘‘ وہ صاحب چلے تو گئے لیکن مجھے کُھد بُد سی ہونے لگی کہ اب کہاں کوئی پچاس برس پیشتر اک فرصت گناہ ملی تھی اور وہ بھی چار دن اور کیا اب ان چار دنوں کا بھی حساب ہو گا۔

اچھا مجھے ملکی مفاد کی خاطر ایک نئے ٹیکس کے نفاذ پر کچھ اعتراض نہیں بلکہ مجھے تو اس کے نہایت لغو نام پر اعتراض ہے‘ یہ جو بھی حکیم لقمان ہے جس نے اس کا نام تجویز کیا ہے اس کی حکمت کی ڈگری وغیرہ چیک کرنی چاہیے کہ ایسا حکیم حاذق کہاں سے آ گیا جو نہ صرف تحریک پاکستان بلکہ اردو ادب سے بھی آگاہ نہیں۔ یہ نہیں جانتا کہ تمباکو کے استعمال کے بغیر ہماری تاریخ سے دھواں ہی نہیں اٹھتا اور آپ نے اس دھویں کو ’’گناہ‘‘ قرار دے دیا ہے۔

میرے کاشت کار آباواجداد میں سے بیشتر حقّہ پیتے تھے بلکہ ایک چاچی جی جب تک حقے کا دم نہیں لگاتی تھیں ان کا دم نہیں نکلتا تھا۔ میرے ابا جی گھر سے باہر سگریٹ پیتے تھے اور گھر میں ایک عظیم الشان حقے سے شغل فرماتے کتابیں لکھا کرتے تھے۔‘‘نہ صرف مولانا ظفر علی خاں بلکہ ان کے حقے کی بھی تحریک پاکستان کے لئے ناقابل فراموش سلگتی ہوئی خدمات ہیں۔ حقے کا ایک کش لگا کر گاندھی اور نہرو کی ایسی تیسی کر دیتے تھے۔

مولانا غلام رسول مہر کے حقے کے کرشمے کہاں تک بیان کروں۔ صرف سیرت النبیؐ کامل مرتبہ ابن ہشام کا تذکرہ ہی کافی ہے۔ جس کا ترجمہ مولانا عبدالجلیل صدیقی کے ہمراہ مولانا مہر نے کیا کمال کا کیا… اور پھر حقوں کے سردار علامہ اقبال کے حقے کی شعری عظمت سے کون واقف نہیں۔ نال لبوں میں دبی ہوئی۔ آنکھیں بند‘ کش لگایا تو شعر ہیں کہ نازل ہوتے چلے گئے۔

ایک بار وزیر آباد کے سٹیشن پر کسی ٹرین کا انتظار طول کھینچ گیا تو یکدم حقے کی شدید طلب ہوئی۔ اب رات کے اس پہر شاعر مشرق کے شایان شان حقہ کہاں سے آتا۔ ایک قلی سویا ہوا تھا۔ اسے جگایا گیا اور اس کے گندے مندے حقے سے حضرت علامہ نے دو کش لگائے تو فرحاں و شاداں ہوئے‘ طبیعت بحال ہو گئی۔ بلکہ ان کے حقے کا سب سے ’’شاعرانہ‘‘ اظہار ہمارے گجرات کے ’’بانگ دہل‘‘ کے مصنف حضرت استاد امام دین گجراتی نے اپنی ایک ’’نظم‘‘ میں کیا۔

یاد رہے کہ جب استاد کا شعری مجموعہ اشاعت کے لئے مکمل ہوا تو اس کا عنوان زیر بحث آیا۔ ان کے قریبی ’’دوستوں‘‘ نے استاد سے کہا کہ حضور آپ علامہ اقبال سے کم درجے کے شاعر تو نہیں‘ لوگ نہ مانیں کہ حاسد لوگ ہیں ہم تو آپ کو ان سے بڑا شاعر مانتے ہیں۔ انہوں نے اپنے شعری مجموعے کا نام ’’بانگ درا‘‘ رکھا ہے یعنی گھنٹی کی آواز تو آپ ان کے مقابلہ میں اپنے مجموعے کا نام ’’بانگ دہل‘‘ رکھیے یعنی ڈھول کی آواز۔

ایک مرتبہ آپ کی شاعری کا ڈھول ڈم ڈم بجا تو اس کے سامنے گھنٹی کی آواز کون سنے گا۔ چنانچہ استاد نے بخوشی مشورہ قبول کیا بلکہ اپنی شاعرانہ عظمت پر قدرے نازاں ہوئے اور مجموعے کا نام ’’بانگ دہل‘‘ ہی رکھا۔ چنانچہ آج چار وانگ عالم میں ان کی شاعری کے ڈھول کی آواز گونج رہی ہے۔ اگر کبھی موقع ملا تو انشاء اللہ استاد کی عظیم شاعری کے کچھ لازوال نمونے آپ کی خدمت میں پیش کروں گا اور ان میں ’’تیری ماں نے پکائے مٹر مام دیناں۔ بھی شامل ہو گا۔

بہر طور ایک بار استاد اپنے ہم عصر علامہ اقبال سے ملنے گئے تو واپسی پر انہوں نے اپنی نظم کے کوزے میں علامہ اقبال کے دریا کو یوں بند کر دیا… ہم بھی لاہور گئے دیکھنے علامہ اقبال شعر بھی کہتے تھے اور … حقہ بھی پیتے تھے نال نال!

اس نازک خیالی کی داد صرف اہل ذوق ہی دے سکتے ہیں کہ انہوں نے حقہ بھی پیتے تھے ساتھ ساتھ کی بجائے پنجابی نال نال استعمال کر کے ایک عجیب تخلیقی بو قلمی کا مظاہرہ کیا ہے یعنی حقے کی نال کو کیسا باندھ کے رکھ دیا ہے کہ انسان عش عش کر اٹھتا ہے۔

تو وہ حکیم لقمان کہاں ہے جس نے تمباکو نوشی پر ’’گناہ ٹیکس‘‘ لگانے کی تجویز دی۔ یعنی یہ سب حضرات مولانا ظفر علی خان‘ مولانا غلام رسول مہر اور علامہ اقبال گویا گناہ کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔ لاحول ولا… چلئے ان ادیبوں اور شاعروں وغیرہ کوچھوڑیے یہ تو ہوتے ہی ایسے ہیں کیا آپ کو حضرت قائد اعظم کی نازک انگلیوں میں نازک سے سگریٹ سلگتے یاد ہیں کہ نہیں۔ ان کے سگریٹ کیس کبھی ملاحظہ کئے۔ ان کے سگار کیسے مہک آور ہوتے تھے کہ گاندھی جی ناک چڑھاتے تھے۔

ہمارے متعدد حکمران اور لیڈر سگاروں اور سگریٹوں کے شیدائی تھے۔ بھٹو صاحب‘ پیر پگاڑا‘ غلام محمد‘ فیروز خان نون وغیرہ اور دور کیا جانا اپنے شیخ رشید صاحب کے سگار اتنے قیمتی ہوتے ہیں کہ ان کے شیخ ہونے پر شک ہوتا ہے کہ شیخ حضرات اس نوعیت کی فضول خرچی سے عام طور پر پرہیز کرتے ہیں۔

ممکن ہے یہ مہنگے سگار دوست ان کو تحفے کے طور پر پیش کرتے ہوں۔ ورنہ کہاں یہ گراں سگار اور کہاں حضرت شیخ!

چنانچہ مجھے ٹیکس پر کچھ اعتراض نہیں صرف اس کے نام پر اعتراض ہے کہ آخر سگریٹ کب سے گناہوں میں شامل ہو گیا۔ آئندہ کالم میں اسی ٹیکس کے کچھ مناسب نام تجویز کروں گا اور نال نال گناہ کے کانسپٹ کے بارے میں کچھ موشگافیاں کروں گا انشا اللہ۔(جاری)

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں