اسلام آباد:بھارتی ڈی ٹی ایچ اے کی فروخت سے متعلق کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگرمیں مارکیٹ سے خریدکے لے آؤں توکونساافسرذمہ دارہوگا؟۔

تفصیلا ت کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے بھارتی ڈی ٹی ایچ اے کی فروخت سے متعلق کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس دیئے کہ پاکستان کوکروڑوں روپے کانقصان ہورہاتھا،سکیورٹی اداروں نے مارکیٹ سے 97 ملین کے آلات ریکورکئے،اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اب ڈی ٹی ایچ مارکیٹ میں نہیں مل رہا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگرمیں مارکیٹ سے خریدکے لے آؤں توکونساافسرذمہ دارہوگا؟۔نمائندہ ایف بی آر نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے 52 مقدمات درج کئے ہیں۔

ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ 20 افرادکےخلاف منی لانڈرنگ کی انکوائری چل رہی ہے،پاکستان میں منی لانڈرنگ کےخلاف مہم چل رہی ہے،پاکستان سے براستہ سری لنکاپیسے بھارت جاتے ہیں،ہم اس پرانکوائری کررہے ہیں،ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ بٹ کوائن کے ذریعے بھی منی لانڈرنگ ہورہی تھی،ایف آئی اے،پیمرا،پی ٹی اے پرمشتمل ٹیم کام کررہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں