فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے سے فضائی آلودگی(سموگ)پیدا ہوتی ہے ترجمان محکمہ زراعت جنوبی پنجاب

ملتان: محکمہ زراعت جنوبی پنجاب کے ترجمان نوید عصمت کاہلوں نے کہا ہے کہ فصلوں کی باقیات مثلاً دھان کے مڈھوں کو آگ لگانے سے فضائی آلودگی(سموگ)پیدا ہوتی ہے ۔
ایک تحقیق کے مطابق فضاء میں معلق ذرات کی زیادہ سے زیادہ مقدار 80 مائیکروگرام پر کیوبک میٹر ہونی چاہیے مگر جب یہ مقدار اس حد سے تجاوز کر جائے تو یہ صورتحال فصائی آلودگی (سموگ) کہلاتی ہے جس کی وجہ سے فصلات، باغات اور سبزیوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ موجود ہوتا ہے۔ ان منفی اثرات کی وجہ سے پودوں کی نشوونما متاثر ہونے کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار میں کمی واقع ہوسکتی ہے ۔ ترجمان نے مزید کہا کہ سموگ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے فصلوں کی باقیات مثلاً دھان کے مڈھوں اور کپاس کی چھڑیوں کو آگ نہ لگائی جائے بلکہ ان کو زمین میں ملا کر زمین کی زرخیزی میں اضافہ کریں۔
اس کے علاوہ بھٹہ کے مالکان بھی فصلات کی باقیات کو بطور ایندھن استعمال کرنے سے گریز کریں۔ سموگ کی صورت میں کاشتکار فصلوں ، باغات اور سبزیوں کو ہلکا پانی لگائیں اس عمل سے سموگ کے اثرات کافی حد تک زائل کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ سموگ کی صورت میں کاشتکارہفتہ میں فصلات پر سادہ پانی کا ایک سے دو مرتبہ سپرے کریں ۔
پانی کا سپرے کرنے سے فصلوں کے پتوں پرسموگ کی وجہ سے گرد جمع نہیں ہو گی جس سے سموگ سے پودا متاثر ہونے سے محفوظ رہے گااور پودوں میں ضیائی تالیف کا عمل درست انداز میں جاری رکھنے میں مدد ملے گی ۔ سموگ سے انسانوں کے علاوہ چرند ، پرند اور پودے بھی متاثر ہوتے ہیں۔کپاس کی چنائی صوبہ بھر میں جاری ہے ۔ کپاس کی چنائی شبنم خشک ہونے کے بعد کی جائے اور نمی والی کپاس کو گودام میں رکھنے سے گریز کریں ۔
ترجمان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ امسال محکمہ زراعت پنجاب کی ٹیمیں فصلات کی باقیات کو جلائے جانے کی مانیٹرنگ کریں گی اور روزانہ کی بنیاد پر اپنی رپورٹس مرتب کریں گی۔چونکہ فصلات کی باقیات کو آگ لگانے سے فضائی آلودگی (سموگ) پیدا ہوتی ہے لہذٰا ماحول کو انسان دوست بنانے کی غرض سے ایسے کاشتکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی جو اپنی فصلات کی باقیات کو آگ لگائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں