اِک بدّو میرا ھیرو

بچپن میں سنی ہوئی بہت سی کہانیاں اور واقعات ہم وقت گزرنے کے ساتھ بھول جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی چند ایک ایسی کہانیاں ضرور ہوتی ھیں جوکبھی نہیں بھولتیں بلکہ ذہنوں کے ساتھ چپک جاتی ھیں۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوچوں کا محور بن جاتی ھے۔ خصوصی طور پر وہ کردار جن کے گرد کہانی گھومتی ہے وہ لوگ رفتہ رفتہ ہمارے ھیرو بن جاتے ہیں اور جب روزمرہ زندگی میں انکااعادہ ھوتا رہے تو ہم ان کرداروں کے سحر میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔
اسی قسم کا ایک واقع ہے کہ ایک بدو بھری محفل میں خلیفہ ء وقت سے مخاطب ھوتا ھے۔ اُس خلیفہ سے جس کی سلطنت تین برّاعظموں پر پھیلی ھوئی ھے۔ جس کے لشکر جس طرف پیش قدمی کریں انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔ عدل میں اتنا مستقیم کہ اسکا اعلان ہے کہ فرا ت کے کنارے پیاس سے مرے ھوئے کتے کا بھی وہ جوابدہ ھے۔ جس کی سلطنت میں غلطی کرنے پر گورنر کو بھی رسیوں میں جکڑ کر دربار میں لایا جاتا ھے۔ اس خلیفہء کے سامنے چپٹے ناک، سیاہ رنگت اور چھوٹے سے قد کا ایک بدّواستفسار کرتا ھے کہ تمہارا کرُتا ایک چادر میں کیسے بن گیا۔میرے کرُتے کے لیے تو ایک چادر ناکافی تھی جبکہ تم میرے سے قدمیں بھی لمبے ھو۔جس پر خلیفہء نے کہا کہ اسکا جواب میرا بیٹا دے گا۔ بیٹے نے کہا کہ میں نے اپنے حصے کی چادر اپنے باپ کو دے دی تھی۔
اس سارے واقعے کو عمومی طور پر خلیفہء کی ایمانداری کی مثال کے طور پر لیا جاتا ھے۔اس میں کوئی شک نہیں لیکن میرے نزدیک خلیفہء کی ایمانداری سے بڑھ کر یہ واقع اس بدّو کی ہمت، حریت فکر اور حق گوئی کی مثال ھے۔ بچپن سے لیکر اب تک بارھا یہ واقع سننے کے بعد اس گمنام بدّو سے میری محبت، عقیدت میں بدل چکی ھے۔ اس سے پہلے بھی آپ نے یہ واقع بارھا بہت لوگوں سے سنا ہوگا۔میری طرح اُن کے لیے بھی جس طرح رومانوی داستانوں میں ایک خوبصورت ، شجاع اورذہین شخض کا کردار ادا کرنے والا ھیرو محسور کن ھوتا ھے۔ اسی طرح بہت سارے لوگ انصاف کے اس واقع میں اس بدّو کی شجاعت اور بے باکی کی وجہ سے اس واقع کا ھیرو سمجھتے ھیں۔
اس واقع کی تمہید کے بعد میں آپکو اس نقطہ پر لانا چاہ رھا تھا کہ ہمارے روحوں کی بنجر زمین کو اسی طرح کے واقعات کا پانی دے کر ذرخیز کرنے کوشش کی گئی ھے۔ جو کہ کافی حد تک حوصلہ افزا ھے۔
خاص طور پر ہماری نوجوان نسل آزادی رائے میں کافی آگے نکل چکی ھے۔ ان کو اس بدّو کے ساتھ کسی طور پر مماثلت نہیں دی جاسکتی مگر ایک خوئے بے باکی میں کسی حد تک مماثلت پائی جاتی ھے۔ جو شخص برسوں بتوں کو اپنا آقاومالک مان کر پوجتا رھا ھو لیکن حق آشکار ھونے کے بعد اُنہی پتھر کے آقاؤں کو اپنے پاؤں تلے روندے تو ایسا شخص کسی دوسرے زمینی خدا کو کبھی نہیں ما ن سکتا۔ حق آشکار ہوجانے کے بعد تمام مصلحتیں دم توڑ جاتی ھیں۔ ایسا شخص اپنے پرائے، رشتہ دار اور بیگانے کی تمیز کئے بغیر جھوٹ اور سچ کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرتا ھے۔
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے آبلہِ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
میں زہرھلاھل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

حالیہ انتخابات میں دو خاندانوں کے برسوں کے اقتدار اور نواب اِبن نواب کی گردان کو توڑنے میں ہماری نوجوان نسل کاکلیدی کردارھے۔ میں ایسے بہت سے گھرانوں کو جانتا ھوں جن کے بچوں نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف ووٹ دئیے ہیں۔ اصل میں اُنہوں نے ایک خواب کو ووٹ دیا ایک سہانا اور دلفریب خواب نئے پاکستان کا خواب جہاں عدل کی حکمرانی ھوگی، جس میں حکمران وقت کے لئے بھی وہ وہی قانون ھوگا جوکہ عام لوگوں کے لیے۔ جہاں طاقتور پیسے کے زور پر مظلوم کی آواز دبا نہیں سکے گا۔جیساکہ احمدفراز کا شعر ھے۔

امیر شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ھے
کبھی باحیلہ مذھب، کبھی بنام وطن

اب اُن خوابوں کی تعبیر کا وقت ھے۔ حالات غیر معمولی بھی ہیں اور ہنگامی بھی اس لیے غیر معمولی اور ھنگامی بنیادوں پر کام کی بھی ضرورت ہے۔ اگرچہ سمت درست ھے لیکن یہ مت بھول جانا کہ ایک دفع جب برسوں کی پوجا کے بعد منات کے بت کو توڑنے کا حوصلہ آجاتا ھے تو پر سومنات کو توڑنا بھی مشکل نہیں لگتا۔
آب خان صاحب کو حقیقت پسندانہ فیصلے کرنا ھوں گے، اپنی کہی ہوئی باتوں پہ پہرہ دینا ھوگا۔ عام آدمی کی فلاح کے کام کرنے ھوں گے۔ عام آدمی کو اس سے غرض نہیں کہ ملک پہ قرضہ کتنا کم ھوا ھے یا زیادہ ھوا ھے۔ قرضہ تو امریکہ پر بھی ھے لیکن اس قرض کا استعمال عام آدمی کی فلاح پہ ھوایا نہیں اسکی زندگی آسان ہوئی یا نہیں۔ یکساں تعلیمی نظام، پرائیویٹ سکول مافیا کا خاتمہ، صحت کی سہولتیں، صاف پانی ، صاف خوراک اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات یکساں طور پر ملیںیا نہیں۔
یاد رکھیے گا محبت جتنی شدید ھو نفرت بھی اتنی سے شدید ھوتی ھے۔ جتنی گہری دوستی ھوتی ھے اتنی ہی خطرناک دشمنی ھوتی ھے۔ یہ قوم آ پ سے ایک چادر کا بھی سوال پوچھے گی۔آپکے کئیے ھوئے وعدے فسادی قرض خواھوں کی طرح دامن سے کھنچیں گے۔ تخت سے تختہ ھوتے دیر نہیں لگے گی۔سنجیدگی، ہرمعاملے میں انتہائی سنجیدگی درکار ھے۔زبان اور جذبات پہ قابو، نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو قوم کے رہنماؤں کا شیوہ ھے۔ جنہوں نے ملت کی تقدیر بدلنی ھو۔ راکٹ سائنس نہیں ھے میر کارواں کے لیے اصول واضح ھے۔

نگاہ بلند، سخن دلنواز،جاں پرُسوز
یہی ھے رخت سفر میر کارواں کے لیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں