تین باتوں کی ایک بات…

شیخ سعدیؒ ایک حکایت میں چڑی مار کا ایک قصہ نقل کرتے ھیں۔ نوشیر نامی یہ شخص جنگل سے چڑیاں پکڑ کر بازار میں فروخت کرتا تھا اور اسی سے گزر اوقات کرتا تھا۔ وہ عرصہ دراز سے اسی کام سے وابسطہ تھا۔ ایک دن اس کے ہاتھ ایک بہت نایاب اور حسین چڑیا لگی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس چڑیا کو بازار میں فروخت نہیں کرے گا بلکہ اپنے گھر میں ایک پنجرے کے اندر رکھے گا۔
لہذا اس نے پنجرے کے اندر پانی اور دانہ وغیرہ رکھ دیا اور چڑیا کو اس پنجرے میں بند کردیا۔ شام کو جب وہ گھر آیا تو اس نے دیکھا کہ چڑیا نے پانی اور دانے کو منہ تک نہیں لگایا اورنڈھال ہو کر پنجرے میں پڑی ہے۔ نوشیر کو بہت تشویش ہوئی اس نے چڑیا کو آواز دی اس نے نقاھت کے ساتھ ھلکی سی آنکھیں کھولیں۔ نوشیر نے چڑیا سے کہا کہ تم نے دانہ کیوں نہیں کھایا اورتم چہچہا کیوں نہیں رھی جبکہ جنگل میں تمہاری چہچہائٹ محسور کن تھی۔ چڑیا نے جواب دیا کہ کیسے میں کیسے چہچہا سکتی ھوں اور کھانا کھا سکتی ھوں جبکہ تم نے مجھے میرے خاندان اور بچوں سے جدا کردیا ھے، اگر تم مجھے اسی طرح قیدرکھو گے تو میں بالکل کھانا نہیں کھاؤں گی اور نہ ہی میں چہچہاسکتی ھوں۔ نوشیر نے چڑیا کی کافی منت سماجت کی لیکن چڑیا کسی طور بھی قید رھنے کے لیے تیار نہ تھی۔ اسی طرح ایک اور دن گزر گیا کہ چڑیا بالکل نڈھال پنجرے میں پڑی ھے نہ کچھ کھا رھی ھے نہ بول رھی ھے۔ نوشیر نے بھی دو ٹوک الفاظ میں چڑیا سے کہ کہ تمہاری بقا ء اسی میں ھے کہ تم کھانا کھاؤ اور اسی پنجرے کو اپنا باغ سمجھو میں کسی طور تمہیں آزاد کرنے والا نہیں۔
چڑیا نے جب نوشیر کی ھٹ دھرمی دیکھی تو وہ جان گئی کہ وہ اسکو واقعی کسی صورت آزاد نہیں کرے گا ۔ چڑیا رنگ ونسل میں نایاب ھونے کے ساتھ ساتھ عقلمند بھی تھی۔ چڑیا نے نوشیر سے کہا کہ تم میرے ساتھ ایک سودا کرلو اور مجھے آزاد کر دو۔
نوشیر نے کہا کہ سودا ہمیشہ لین اور دین کی بنیاد پر ھوتا ھے۔ لیکن تمہارے پاس تو دینے کے لیے کچھ نہیں تم خود میری قید میں ھو۔ چڑیا نے جواب دیا کہ تم بالکل ٹھیک کہتے ھو ، مادی لحاظ سے تو میرے پاس دینے کو کچھ نہیں لیکن عقلمندی اور شعور کی چند باتیںھیں جن پر عمل کرنے سے کوئی بھی انسان مطمئن اور خوشحال زندگی گزار سکتا ھے ۔ میں ان میں سے تین باتیں تمہیں بتاؤں گی اور بدلے میں تم مجھے آزاد کروگے۔ نوشیر نے کہا تم مجھے بیوقوف سمجھتی ھو ایسی کون سی باتیں ھوں گی جو مجھے معلوم نہ ھوں جن پر عمل کرکے کوئی مطمئن زندگی گزار سکے میں تمہارے چکمے میں آنے والا نہیں لہذا تم آرام سے اسی پنجرے میں رھو اور اسی کو اپنا مقدر سمجھو۔ لیکن چڑیا اس فیصلے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھی لٰہذا کچھ نہ کھانے پینے کی وجہ سے اسکی حالت ابتر ھو رھی تھی۔نوشیر کو خیال آیا کہ چڑیا کی حالت تو واقعی بدحال ھو رھی ھے۔ اور یہ کسی وقت بھی بھوک اور پیاس کی وجہ سے مرسکتی ھے تو کیوں نہ اس سے ان باتوں کے بارے میں دربافت کروں ھوسکتا ھے کوئی کام کی بات ھو ویسے بھی یہ مرتو رھی ھے۔ اس نے چڑیا سے کہا کہ تم وہ تین باتیں مجھے بتاؤ جس پر عمل کرکے میں مطمئن اور خوشحال زندگی گزار سکوں گا اور بدلے میں تمہیں اس قید سے آزادی ملے گی۔ چڑیا بہت خوش ھوئی اس نے کہا کہ ان باتوں کو بتانے کے لیے میری چند شرائط ھیں وہ یہ کہ پہلی راز کی بات میں تمہیں تب بتاؤں گی جب تم مجھے اس پنجرے میں سے نکال کر اپنے ھاتھ میں پکڑو گے۔دوسری بات تمہارے گھر کی منڈیر پر بیٹھ کر بتاؤں گی اور تیسری بات میں تمہیں کل صبح آکر بتاؤں گی۔نوشیر کے پاس ان باتوں کو ماننے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ تھا۔ بحر صورت وہ اس پر آمادہ ھوگیا۔
اس نے چڑیا کو پنجرے سے نکالا اور ھاتھ میں پکڑ کر پہلی بات پوچھی چڑیا نے کہا کہ اگر مطمئن اور خوشحال زندگی گزارنا چاھتے ھو تو گزرے ھوئے کل پہ کبھی نہ پچھتانا، چاھے تم نے لاکھوں کروڑوں کا نقصان کیا ھو۔ اسے زندگی کا ایک تجربہ سمجھنا نہ کہ اسے زندگی کا روگ بنالو اور اپنے آج کو بھی برباد کر بیٹھو۔ نوشیر کو یہ بات بھلی لگی اور اس نے چڑیا سے دوسری بات کے بارے میں استفسار کیا۔ چڑیا نے کہا کہ شرائط کے مطابق میں دوسری بات آپکے گھر کی منڈیر پر بیٹھ کر بتاؤں گی۔ لہذا تم مجھے آزاد کرو۔نوشیر کے ہاتھ سے آزاد ھوتے ھی وہ پھرُکرکے منڈیر پر بیٹھ گئی۔ اس نے پوچھا کہ اب دوسری راز کی بات بتاؤ چڑیا بولی! تم دنیا کے سب سے بڑے احمق اور بدقسمت انسان ھو۔ کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ میرے پیٹ میں 150قیراط کا ہیرہ ھے جسے تم مجھے مار کر نکال سکتے تھے اور شہر کے امیر ترین آدمی بن سکتے تھے۔ یہ کہہ کر چڑیا اُڑ گئی اور نوشیر بے بسی کے عالم میں چارپائی پر لیٹ گیا۔ وہ اتنا بدل ھوگیا کہ اس دن کام پر بھی نہ گیا۔ نہ کچھ کھایا نہ پیا ۔ نڈھال ھو کر چارپائی پہ پڑا یہی سوچتا رھتا کہ وہ کتنا بدنصیب ھے وہ اپنی غربت اور محرومی کو ختم کرسکتا تھا لیکن نہ سمجھی میں اس چڑیا کی باتوں میں آکر اپنا سب کچھ گنوابیٹھا ۔ یہی سوچتے سوچتے صبح سے رات اور رات سے دوبارہ دن ہوگیا۔ جیسے ہی سورج کی کرنیں اس کے کمرے میں داخل ھوئیں اس نے اسی چڑیا کے بولنے کی آواز سنی۔ چڑیا اس کے باھر آنے کا انتظار کررھی تھی۔ لیکن نقاہت کے مارے اس سے اٹھا نہیں جا رھا تھا۔
اس کے کھانسنے کی آواز سن کر چڑیا کمرے کے روشن دان میں آئی چڑیا کو دیکھ کر نوشیر نے پوری طاقت کے ساتھ چھلانگ لگا کر اسے پکڑنے کی کوشش کی لیکن چڑیا فورا اُڑ کر باہر آگئی اور اس نے نوشیر کو باھر آنے کا کہا۔ چڑیا نے کہا کہ وعدے کے مطابق میں آج تمہیں تیسری راز کی بات بتانے آئی تھی۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہتی ہوں کہ اب میں وہ بات تمہیں بتا نہیں سکتی کیونکہ تم نے میری پہلی بتائی ھوئی بات پہ ہی عمل نہیں کیا۔ میں نے تم سے کہا تھا کہ زندگی میں کوئی نقصان ھو جائے، کسی انسان سے کوئی غم ملے یا کسی کام کا مطلوبہ نتیجہ نکلے تم نے اس پر پچھتانا نہیں ھے کیونکہ وہ دن اور موقع گزر چکا ھے۔ اب لکیر پیٹنے سے کچھ حاصل ھونے والا نہیں۔
دوسرا یہ کہ تم نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا کہ دو اونس کی چڑیا کے پیٹ میں 150قیراط کا ھیرہ کیسے آگیا۔ چڑیا کے پیٹ میں بھی کبھی ھیرا نکلا ھے؟کیا میں موتی کھاتی ھوں؟یہ کہہ کر چڑیا اُڑ گئی۔
عزیز گرامی! درحقیت شیخ سعدیؒ اس حقایت میں ایک ہی بات بتانا چاھتے تھے کہ مطمئن اور خوشحال زندگی گزارنے کے لیے آپ کو ماضی کے پچھتاؤں کو یکسر بھلانا پڑے گا۔ اگر آپ ان کو زندگی کا روگ بنالیں گے تو وہ آپکے آج کو بھی برباد کردیں ے اور آپ زمانے کی دوڑ سے نکل کر ماضی کا قصہ بن جائیں گے۔ اچھے اور تلخ واقعات زندگی کا حصہ ھیں۔آپ ایسی زندگی کی خواہش تو کرسکتے ہیں جس میں تلخ اورناپسندیدہ واقعات نہ ھوں لیکن ایسے زندگی کا وجود اس دنیا میں موجود نہیں ۔ لہذا عقلمندی کا تقاضہ یہی ھے کہ آپ ماضی کی تلخی کو بھلائیں اور اپنے “آج “پر توجہ مرکوز کریں تاکہ آپکا مستقبل روشن ھو۔

عمران نذر محمد خاں
imran.nazar1984@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں