کپاس کی ہفتہ میں دو بار پیسٹ سکاؤٹنگ کریں، ایڈیشنل سیکرٹری زراعت (ٹاسک فورس) پنجاب

ملتان(اشعل نیوز ویب ڈیسک ) ایڈیشنل سیکرٹری زراعت (ٹاسک فورس) پنجاب بینش فاطمہ ساہی نے کہا ہے کہ بدلتے موسمی حالات میں کپاس کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کیلئے بہترین حکمت عملی مرتب کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ کپاس کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے ضرر رساں کیڑوں کا بروقت انسداد اشد ضروری ہے۔ محکمہ زراعت کی فیلڈ ٹیمیں کپاس کی ہفتہ میں دو بار پیسٹ سکاؤٹنگ کریں اور کیڑوں کی معاشی نقصان دہ حد کے مطابق سفارش کردہ زہروں کا سپرے کروائیں-
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کپاس کی موجودہ صورت حال اور آئندہ پندھرواڑے کیلئے حکمت عملی اور سفارشات مرتب کرنے کے سلسلہ میں مینگو ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان میں منعقدہ ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کے موقع پر کیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع) سید ظفر یاب حیدر، ڈائریکٹر جنرل زراعت (ریسرچ) ڈاکٹر عابد محمود، ڈائریکٹر کاٹن پنجاب ڈاکٹر صغیر احمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی اطلاعات نوید عصمت کاہلوں، نمائندہ پی سی پی اے راؤ شاہد اختر سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری زراعت (ٹاسک فورس) پنجاب نے کہا کہ کپاس کی اچھی پیداوار کے حصول کیلئے بہتر نگہداشت بہت ضروری ہے۔ کپاس کی بڑھوتری اور پھل لگنے کے عمل کو مزید تیز کرنے کیلئے نائٹروجنی کھادوں کا استعمال ستمبر کے پہلے ہفتے میں مکمل کیا جائے۔ اس مرحلہ پر فصل کو پانی کی کمی ہرگز نہ آنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ درجہ حرات اور زیادہ نمی کی وجہ سے پھل گرنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس سے بچاؤ کیلئے نائٹروجنی کھادوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ بوران اور زنک کا استعمال بھی بذریعہ سپرے کریں۔ کپاس پر اس وقت سفید مکھی ،سبز تیلے اور گلابی سنڈی کا حملہ مشاہدہ میں آرہا ہے۔ ان کے موثر تدارک کیلئے سفارش کردہ زہروں کا استعمال کریں۔ سفید مکھی کے تدارک کیلئے پانی کی مقدار 100 سے 120لٹر کو یقینی بنائیں اور کپاس کے کھیت میں پیلے رنگ کے لیس دار کارڈ لگائیں اور 15 دن کے وقفے سے انہیں تبدیل کریں۔ مدھانی نما پھول نظر آئیں تو انہیں تلف کریں اور فوراً سپرے کریں۔ گلابی سنڈی کے کیمیائی تدارک کیلئے بائی فینتھرین 10EC بحساب 250 ملی لٹر یا ٹرائی ایزوفاس 800 لٹر فی ایکڑ علیحدہ یا رس چوسنے والے کیڑوں کی سپرے کے ساتھ ملا کر سپرے کریں۔ ایک زہر کو یکے بعد دیگرے استعمال نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملی بگ کے حملہ میں اضافہ مشاہدہ میں آرہا ہے جس کے تدارک کیلئے پروفینوفاس بحساب 80 ملی لٹر + امیڈا کلوپرڈ (25WP) 40 گرام + 30 گرام سرف 20 لٹر والی پانی کی ٹینکی میں حل کرکے متاثرہ و ارد گرد پودوں پر سپرے کرنے کے بارے میں رہنمائی کی جائے اور 4 دن بعد ان پودوں پر دوبارہ سپرے کریں۔ اس موقع پر اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع) سید ظفر یاب حیدرنے کہا کہ پتا مروڑ وائرس، رس چوسنے والے کیڑوں اور سنڈیوں کے تدارک بارے کاشتکاروں کی بھرپور رہنمائی کی جارہی ہے اور اس سلسلہ میں فیلڈعملہ روزانہ کی بنیادپراپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے ۔اس موقع پر ڈاکٹر عابد محمود اور ڈاکٹر صغیر احمد نے بھی اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں